پچھلا پہر

قسم کلام: اسم ظرف زماں

معنی

١ - رات کا یا دن کا آخری چوتھائی حصہ (عموماً رات کے لیے مستعمل)۔ "ابھی پچھلا پہر شروع نہ ہوا تھا کہ وزیر جنگ نے اپنی فوج کو کھڑا کیا۔"      ( ١٩٢٩ء، تمغۂ شیطانی، ٦٣ ) ٢ - کسی حصۂ عمر کا آخری زمانہ۔  دھوپ میں بھی تھا ابر ساون کا یائے پچھلا پہر لڑکپن کا      ( ١٩٤٧ء، سموم و صبا، ١١٠ )

اشتقاق

سنسکرت زبان سے ماخوذ اسماء 'پچھلا' اور 'پہر' پر مشتمل مرکب اردو میں بطور اسم استعمال ہوتا ہے۔ ١٨٣٦ء کو "ریاض البحر" میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - رات کا یا دن کا آخری چوتھائی حصہ (عموماً رات کے لیے مستعمل)۔ "ابھی پچھلا پہر شروع نہ ہوا تھا کہ وزیر جنگ نے اپنی فوج کو کھڑا کیا۔"      ( ١٩٢٩ء، تمغۂ شیطانی، ٦٣ )

جنس: مذکر